New Immissions/Updates:
boundless - educate - edutalab - empatico - es-ebooks - es16 - fr16 - fsfiles - hesperian - solidaria - wikipediaforschools
- wikipediaforschoolses - wikipediaforschoolsfr - wikipediaforschoolspt - worldmap -

See also: Liber Liber - Libro Parlato - Liber Musica  - Manuzio -  Liber Liber ISO Files - Alphabetical Order - Multivolume ZIP Complete Archive - PDF Files - OGG Music Files -

PROJECT GUTENBERG HTML: Volume I - Volume II - Volume III - Volume IV - Volume V - Volume VI - Volume VII - Volume VIII - Volume IX

Ascolta ""Volevo solo fare un audiolibro"" su Spreaker.
CLASSICISTRANIERI HOME PAGE - YOUTUBE CHANNEL
Privacy Policy Cookie Policy Terms and Conditions
نواب مرزا داغ دہلوی کی شاعری - وکیپیڈیا

نواب مرزا داغ دہلوی کی شاعری

وکیپیڈیا سے

نواب مرزا داغ دہلوی

داغ معجز بیان ہے کیا کہنا
طرز سب سے جد انکالی ہے

داغ سا بھی کوئی شاعر ہے ذرا سچ کہنا
جس کے ہر شعر میں ترکیب نئی بات نئی

نہیں ملتا کسی مضمون سے ہمارا مضمون
طرز اپنی ہی جدا سب سے جدا رکھتے ہیں

بقو ل غالب
” داغ کی اردو اتنی عمدہ ہے کہ کسی کی کیا ہوگی!ذوق نے اردو کواپنی گو دمیں پالا تھا۔ داغ اس کو نہ صرف پال رہا ہے بلکہ اس کو تعلیم بھی دے رہا ہے۔“
بقول نفیس سندیلوی، ” داغ فطر ی شاعر تھے وہ غزل کے لئے پیدا ہوئے اور غز ل اُن کے لئے ان کی زبان غزل کی جان ہے۔“
اردو شاعری میں زبان اور اس کی مزاج شناسی کی روایت کا آغاز سودا سے ہوتا ہے۔ یہ روایت ذوق کے توسط سے داغ تک پہنچی داغ نے اس روایت کو اتنا آگے بڑھایا کہ انہیں اپنے استاد ذوق اور پیش رو سودا دونوں پر فوقیت حاصل ہوگئی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب داغ نے ہوش سنبھالا تو لال قلعے میں بہادر شاہ ظفر ، استاد ذوق اور ان کے شاگرد زبان کو خراد پر چڑھا کر اس کے حسن کو نکھار رہے تھے۔ اور بہادر شاہ ظفر کے ہاتھوں اردو کو پہلی بار وہ اردو پن نصیب ہورہا تھا۔ جسے بعد میں داغ کے ہاتھوں انتہائی عروج حاصل ہوا۔
داغ کے زمانے میں زبان کی دو سطحیں تھیں ایک علمی اور دوسری عوامی غالب علمی زبان کے نمائندے تھے۔ اور ان کی شاعری خواص تک محدود تھی۔ اسکے برعکس داغ کی شاعری عوامی تھی وہ عوام سے گفتگو کرتے تھے۔ لیکن ان کے اشعار خواص بھی پسند کرتے تھے۔ کیونکہ ان کے اشعارمعاملات عشق کے تھے اور اُن موضوعات میں عوام و خواص دونوں کی دلچسپی زیاد ہ ہوتی ہے۔بقول عطا ” محبت کی گھاتیں اور حسن و عشق کی ادائیں داغ کے کلام کا طرہ امتیاز ہیں وہ عملی عاشق تھا اس کے اشعار اس کی عشقیہ وارداتوں کی ڈائری کے رنگین اور مصور اوراق ہیں۔“

فہرست

[ترمیم] داغ زبان کے بادشاہ:۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ داغ اردو زبان کے بادشاہ ہیں۔ ان کی کلام میں زبان کا چٹخارہ ، سلاست ، صفائی ، سحرآفرینی ، رنگینی ، شوخی چلبلاہٹ بلا کی پائی جاتی ہے۔ اردو زبان کو داغ کے ہاتھو ں انتہائی عروج حاصل ہوا۔

تھے کہاں رات کو آئینہ تو لے کر دیکھو
اور ہوتی ہے خطاوار کی صورت کےسی

نہ ہمت ، نہ قسمت ، نہ دل ہے ، نہ آنکھیں
نہ ڈھونڈا، نہ پایا، نہ سمجھا ، نہ دیکھا

سادگی، بانکپن ، اغماض ، شرارت ، شوخی
تو نے انداز وہ پائے ہیں کی جی جانتا ہے

[ترمیم] حسن بیان:۔

داغ کی سب سے بڑی خوبی ان کی زبان کا حسن ہے ۔ انہوں نے شاعری کو پیچیدہ ترکیبوں ، فارسی اور عربی کے غیر مانوس الفاظ سے بچانے کی کوشش کی اور سیدھی سادھی زبان میں واقعات اور محسوسات کو بیان کیا۔ اس وجہ سے ان کا کلام تصنع اور تکلف سے خالی ہے۔

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے

کہتے ہیں اسے زبان اردو
جس میں نہ ہو رنگ فارسی کا

نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زبان آتے آتے


[ترمیم] زبان اور شاعری پر ناز:۔

داغ زبان و بیان اور فصاحت کے علمبردار شاعر ہیں اس لئے وہ اپنی زبان اور شاعری پر ناز کرتے ہیں۔ اُن کی اس شاعرانہ تعلیٰ کی مثالیں اُن کی شاعر ی میں جابجا موجود ہیں۔

کیا پوچھتے ہو کون ہے یہ کس کی ہے شہرت
کیاتم نے کبھی داغ کا دیوان نہیں دیکھا

داغ معجز بیان ہے کیا کہنا
طرز سب سے جدا نکالی ہے

داغ سا بھی کوئی شاعر ہے ذرا سچ کہنا
جس کے ہر شعر میں ترکیب نئی بات نئی


[ترمیم] صاف اور با محاورہ زبان:۔

داغ اپنی شاعری میں صاف اور بامحاورہ زبان استعمال کرتے ہیں۔ روزمرہ محاورے کا استعمال زیادہ کرتے ہیں، مثلاً

تو بھی اے ناصح کسی پر جان دے
ہاتھ لا اُستاد کیوں کیسی کہی

آپ کے سر کی قسم داغ کو پروا بھی نہیں
آپ کے ملنے کا ہوگاجسے ارمان ہوگا

غیر کی محفل میں مجھ کو مثلِ شمع
آٹھ آٹھ آنسو رلایا آپ نے


[ترمیم] صاف گوئی:۔

داغ صاف صاف بات کرنے کے عادی ہیں اپنے دل کی بات واضح طورپر سامنے لاتے ہیں اور سادگی اختیار کرتے ہیں۔ اس سادگی اور اور صاف گوئی کی مثالیں جابجا داغ کی شاعر ی میں نظرآتی ہے۔ مثلاً

ہم ساتھ ہو لئے تو کہا اُس نے غیر سے
آتا ہے کون اس سے کہو یہ جدا چلے

لے لئے ہم نے لپٹ کر بوسے
وہ تو ہر کہتے رہے ہر بار یہ کیا

راہ میں ٹوکا تو جھنجلا کر بولے
دور ہو کمبخت یہ بازار ہے


[ترمیم] حق گوئی :۔

داغ کا ظاہر و باطن ایک ہے اور اُن کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ وہ عملی زندگی میں جو کچھ کرتے ہیں اس پر شرمندہ نہیں ہوتے اور اس کا شاعری میں برملا اظہار کرتے ہیں،

غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کاانتظار کیا

شب وصل ایسی کھلی چاندنی
وہ گھبرا کے بولے سحر ہوگئی

دی شب وصل موذن نے اذاں پچھلی رات
ہائے کمبخت کو کس وقت خدا یاد آیا


[ترمیم] کلام میں دلکشی خلوص و صداقت:۔

داغ صرف زبان کا شاعر ہی نہیں بلکہ اُنکی شاعری میں صداقت اور خلوص کا جذبہ بھی کارفرما نظرآتا ہے۔ اُن کے کلام میں حد سے زیادہ دلکشی ، خلوص اور صداقت واضح طور پر نظرآتاہے۔ مثلاً

جو گزرے ہیں داغ پر صدمے
آپ بندہ نواز کیاجانیں

تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتادو مجھ کو
دوسرا کوئی تو اپنا سا دکھا دو مجھ کو


[ترمیم] انفرادیت:۔

داغ نے اپنے ہمعصر شعرا ءکی پیروی نہیں کی بلکہ اپنی الگ راہ سخن اور طرز گفتار نکالی جو ان سے شروع ہوئی اور ان ہی پر ختم ہوئی مثلا! وہ خود کہتے ہیں کہ،

یہ کیا کہا کہ داغ کو پہچانتے نہیں
وہ ایک ہی تو ہے سارے جہاں میں

داغ معجز بیان ہے کیا کہنا
طرز سب سے جدا نکالی ہے

داغ ہی کے دم سے تھا لطف سخن
خوش بیانی کا مزہ جاتا رہا


[ترمیم] طنز و تعریض کی آمیزش:۔

داغ کی شاعری کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ محبوب کے بارے میں ان کے لب و لہجے میں طنز و تعریض کی آمیزش نظرآتی ہے۔ مثلاً

غیروں سے التفات پہ ٹوکا تو یہ کہا
دنیا میں بات بھی نہ کرے کیا کسی سے ہم

تمہارے خط میں نیا اک پیام کس کاتھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کاتھا

تم کو آشفتہ مزاجوں کی خبر سے کیا کام
تم سنوارا کر و بیٹھے ہوئے گیسو اپنے


[ترمیم] مکالمہ نگاری:۔

داغ کی شاعر ی میں مکالمہ نگاری کو اہمیت حاصل ہے۔ وہ اشعار اس طرح کہتے ہیں جیسے کسی کو سامنے بٹھا کر باتیں کرتے ہوں او ر یہ ان کی بہت بڑی خوبی ہے۔ مثلاً

کیا کہا ؟ پھر تو کہو ! ہم نہیں سنتے تیری“
نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں

خدا کے واسطے جھوٹی نہ کھائیے قسمیں
مجھے یقین ہوا مجھ کو اعتبار آیا

لطف مئے تجھ سے کیا کہوں واعظ
ائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں


[ترمیم] زبان دہلی کا استعمال:۔

داغ نے لال قلعے میں پرورش پائی اور دہلی کی گلی کوچوں میں جوان ہوئے ۔ اس لئے داغ اپنی شاعری میں زبان دہلی کا استعما ل کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

مستند اہل زباں خاص ہے دہلی والے
اس میں غیروں کا تعرف نہیں مانا جاتا


[ترمیم] داغ کی شاعری کامحور:۔

داغ کی شاعری صرف ایک محور پر گردش کرتی ہے اور وہ ہے عشق ۔ مومن کی طرح ان کے ہاں بھی نفسیاتی بصیرت کا اظہار جگہ جگہ ملتا ہے۔ مثال کے طورپر کہتے ہیں،

رخ روشن کی آگے شمع رکھ کے وہ یہ کہتے ہیں
ادھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پروانہ آتا ہے

اپنی تصویر پہ نازاں ہو تمہارا کیا ہے
آنکھ نرگس کی ، دہن غنچے کا ، حیرت میری

قیامت ہیں بانکی ادائیں تمہاری
ادھر آئو لے لوں بلائیں تمہاری


[ترمیم] جذبات کا شاعر:۔

داغ نہ فلسفی تھے اور نہ کوئی بڑا نظریہ حیات رکھتے تھے و ہ صرف شاعر تھے اور وہ بھی جذبات اور شوخی کے شاعر اُس نے اپنی شاعری میں جذبات کا بھر پور اظہار کیا ہے۔ مثلاً

بہت جلائے گا حوروں کو داغ بہشت میں
بغل میں اُس کے وہاں ہند کی پری ہوگی

جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
ایسی جنت کا کیا کرے کوئی

تو ہے ہرجائی تو اپنا بھی یہی طور سہی
تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی


[ترمیم] خوبصورت چہروں کا دلدادہ:۔

داغ کی زیادہ تر عمر عشق و عاشقی میں گزری دہلی کی ہر مشہور طوائف کے ساتھ اُن کا سلسلہ رہا ۔ داغ خوبصورت چہروں کا دلدادہ رہے۔ خواہ وہ گوشت پوست کا انسان ہو یا پتھر کی مورت۔ اُن کی زندگی میں محبوب کے بچھڑنے کی کوئی اہمیت نہیں۔ کےونکہ وہ بہت جلد دوسری محبت تلاش کر لیتے ہیں۔

بت ہی پتھر کے کیوں نہ ہوں اے داغ
اچھی صورت کو دیکھتا ہوں میں

اک نہ اک کو لگائے رکھتے ہیں
تم نہ وہوتے تو دوسر ا ہوتا

کیا ملے گا کوئی حسیں نہ کہیں
دل بہل جائے گا کہیں نہ کہیں

[ترمیم] معاملہ بندی:۔

داغ کی معاملہ بندی انشاء، رنگین اور جرات کی طرح نہیں ہے وہ داغ کی اپنی ہے جس میں بے تکلفی اور سچائی ہے اور تصنع اور بناوٹ سے بالکل خالی ہے مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں،

پہلے گالی دی سوال وصل پر
پھر ہوا ارشاد کیوں کیسی کہی

حوروں کا انتظار کرے کون حشر تک
مٹی کی ملے توُ توروا ہے شباب میں

لے لئے ہم نے لپٹ کر بوسے
وہ تو کہتے رہے ہر بار یہ کیا


[ترمیم] ناصح ، واعظ اور رقیب:۔

داغ کے ہاں ناصح اور واعظ اور رقیب کے لئے اچھوتے قسم کے مضامین ملتے ہیں عام طور شعراءنے ناصح ، رقیب اور واعظ کے ساتھ نت نئے انداز میں چھٹر چھاڑ کی ہے لیکن داغ نے ان کے دلوں کو ٹٹول کر ہمدردی اور افسوس کا اظہار بھی کیا ہے۔ مثلاً

وہ اس ادا سے وہاں جا کے شرم سار آیا
رقیب پر مجھے بے اختیار پیار آیا

کچھ تذکرہ رنجش معشوق جوآیا
دشمن کے بھی آنسو نکل آئے میر ے آگے

لطف مئے تجھ سے کیا کہوں واعظ
ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں


[ترمیم] ترنم او رموسیقیت:۔

داغ کی غزلوں کی پسندیدگی میں اس کے ترنم اور موسیقیت کو اہمیت حاصل ہے۔ غزلوں کے ردیف اور قافیے کی تلاش میں ان کو کمال کا عبور حاصل ہے۔ اُن کی بحریں اور زمینیں نہایت باغ و بہار ہیں اُن کے ہاں الفاظ کا استعمال نہایت برمحل اور برجستہ ہے۔
داغ غیر ضروری الفاظ سے پرہیز کرتے ہیں بیان کی شوخی ،بے تکلفی ، طنز ، جذبے کی فروانی اور تجربہ و مشاہدہ کی کثرت سے ان کی غزلیں بھر پور ہیں۔مثلاً

ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم
کسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم

بظاہر اُن کو حیادار لوگ سمجھیں گے
حیا میں ہے جو شرارت کسی کو کیا معلوم

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا

وفا کریں گے نبھائیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یا د ہے کچھ یہ کلام کس کاتھا

داغ کے مصرعے جو محاورات بن کر اشعار کے قالب میں ڈھل کر ضرب الامثال بن گئے اور زبان زد خاص و عام ہو گئے ہیں۔

١)ہرروز کی جھک جھک سے مرا ناک میں دم ہے
٢)حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے
٣)تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی
٤)آپکے سر کی قسم داغ کو پرواہ بھی نہیں
٥)ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں
٦) بہت دیر کی مہرباں آتے آتے ٧)جہاں بجتے ہیں نقارے وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں
٨) ذکر حبیب کم نہیں وصل حبیب سے


[ترمیم] مجموعی جائزہ:۔

داغ کی شاعر ی کے متعلق فراق فرماتے ہیں” اردو شاعری نے داغ کے برابر کا فقرہ باز آج تک پیدا کیا ہے اور نہ آئندہ پیدا کر سکے گی۔“
بقول رام بابو سکسینہ :
” ان کی زبان کے ساتھ اس خدمت کی ضرور قدر کرنی چاہیے کہ انہوں نے سخت اور معلق الفاظ ترک کئے اور سیدھے الفاظ استعمال کئے ۔ جس سے کلام میں بے ساختگی اور فصاحت مزید بڑھ گئی ہے۔“ بقول خلیل الرحمن عظمی
”داغ کے طرز بیان میں جو صفائی اور فصاحت ، جو چستی ، جو نکھار ، جو البیلا پن اور جو فنی رچائو ملتا ہے وہ بہت کم غزل گویوں کے حصے میں آیا ہے۔داغ کا فن اُن کی شخصیت کی ایک تصویر ہے اس لئے اس میں بڑی جان ہے۔“

Static Wikipedia (no images)

aa - ab - af - ak - als - am - an - ang - ar - arc - as - ast - av - ay - az - ba - bar - bat_smg - bcl - be - be_x_old - bg - bh - bi - bm - bn - bo - bpy - br - bs - bug - bxr - ca - cbk_zam - cdo - ce - ceb - ch - cho - chr - chy - co - cr - crh - cs - csb - cu - cv - cy - da - de - diq - dsb - dv - dz - ee - el - eml - en - eo - es - et - eu - ext - fa - ff - fi - fiu_vro - fj - fo - fr - frp - fur - fy - ga - gan - gd - gl - glk - gn - got - gu - gv - ha - hak - haw - he - hi - hif - ho - hr - hsb - ht - hu - hy - hz - ia - id - ie - ig - ii - ik - ilo - io - is - it - iu - ja - jbo - jv - ka - kaa - kab - kg - ki - kj - kk - kl - km - kn - ko - kr - ks - ksh - ku - kv - kw - ky - la - lad - lb - lbe - lg - li - lij - lmo - ln - lo - lt - lv - map_bms - mdf - mg - mh - mi - mk - ml - mn - mo - mr - mt - mus - my - myv - mzn - na - nah - nap - nds - nds_nl - ne - new - ng - nl - nn - no - nov - nrm - nv - ny - oc - om - or - os - pa - pag - pam - pap - pdc - pi - pih - pl - pms - ps - pt - qu - quality - rm - rmy - rn - ro - roa_rup - roa_tara - ru - rw - sa - sah - sc - scn - sco - sd - se - sg - sh - si - simple - sk - sl - sm - sn - so - sr - srn - ss - st - stq - su - sv - sw - szl - ta - te - tet - tg - th - ti - tk - tl - tlh - tn - to - tpi - tr - ts - tt - tum - tw - ty - udm - ug - uk - ur - uz - ve - vec - vi - vls - vo - wa - war - wo - wuu - xal - xh - yi - yo - za - zea - zh - zh_classical - zh_min_nan - zh_yue - zu -

Static Wikipedia 2007 (no images)

aa - ab - af - ak - als - am - an - ang - ar - arc - as - ast - av - ay - az - ba - bar - bat_smg - bcl - be - be_x_old - bg - bh - bi - bm - bn - bo - bpy - br - bs - bug - bxr - ca - cbk_zam - cdo - ce - ceb - ch - cho - chr - chy - co - cr - crh - cs - csb - cu - cv - cy - da - de - diq - dsb - dv - dz - ee - el - eml - en - eo - es - et - eu - ext - fa - ff - fi - fiu_vro - fj - fo - fr - frp - fur - fy - ga - gan - gd - gl - glk - gn - got - gu - gv - ha - hak - haw - he - hi - hif - ho - hr - hsb - ht - hu - hy - hz - ia - id - ie - ig - ii - ik - ilo - io - is - it - iu - ja - jbo - jv - ka - kaa - kab - kg - ki - kj - kk - kl - km - kn - ko - kr - ks - ksh - ku - kv - kw - ky - la - lad - lb - lbe - lg - li - lij - lmo - ln - lo - lt - lv - map_bms - mdf - mg - mh - mi - mk - ml - mn - mo - mr - mt - mus - my - myv - mzn - na - nah - nap - nds - nds_nl - ne - new - ng - nl - nn - no - nov - nrm - nv - ny - oc - om - or - os - pa - pag - pam - pap - pdc - pi - pih - pl - pms - ps - pt - qu - quality - rm - rmy - rn - ro - roa_rup - roa_tara - ru - rw - sa - sah - sc - scn - sco - sd - se - sg - sh - si - simple - sk - sl - sm - sn - so - sr - srn - ss - st - stq - su - sv - sw - szl - ta - te - tet - tg - th - ti - tk - tl - tlh - tn - to - tpi - tr - ts - tt - tum - tw - ty - udm - ug - uk - ur - uz - ve - vec - vi - vls - vo - wa - war - wo - wuu - xal - xh - yi - yo - za - zea - zh - zh_classical - zh_min_nan - zh_yue - zu -

Static Wikipedia 2006 (no images)

aa - ab - af - ak - als - am - an - ang - ar - arc - as - ast - av - ay - az - ba - bar - bat_smg - bcl - be - be_x_old - bg - bh - bi - bm - bn - bo - bpy - br - bs - bug - bxr - ca - cbk_zam - cdo - ce - ceb - ch - cho - chr - chy - co - cr - crh - cs - csb - cu - cv - cy - da - de - diq - dsb - dv - dz - ee - el - eml - eo - es - et - eu - ext - fa - ff - fi - fiu_vro - fj - fo - fr - frp - fur - fy - ga - gan - gd - gl - glk - gn - got - gu - gv - ha - hak - haw - he - hi - hif - ho - hr - hsb - ht - hu - hy - hz - ia - id - ie - ig - ii - ik - ilo - io - is - it - iu - ja - jbo - jv - ka - kaa - kab - kg - ki - kj - kk - kl - km - kn - ko - kr - ks - ksh - ku - kv - kw - ky - la - lad - lb - lbe - lg - li - lij - lmo - ln - lo - lt - lv - map_bms - mdf - mg - mh - mi - mk - ml - mn - mo - mr - mt - mus - my - myv - mzn - na - nah - nap - nds - nds_nl - ne - new - ng - nl - nn - no - nov - nrm - nv - ny - oc - om - or - os - pa - pag - pam - pap - pdc - pi - pih - pl - pms - ps - pt - qu - quality - rm - rmy - rn - ro - roa_rup - roa_tara - ru - rw - sa - sah - sc - scn - sco - sd - se - sg - sh - si - simple - sk - sl - sm - sn - so - sr - srn - ss - st - stq - su - sv - sw - szl - ta - te - tet - tg - th - ti - tk - tl - tlh - tn - to - tpi - tr - ts - tt - tum - tw - ty - udm - ug - uk - ur - uz - ve - vec - vi - vls - vo - wa - war - wo - wuu - xal - xh - yi - yo - za - zea - zh - zh_classical - zh_min_nan - zh_yue - zu

Static Wikipedia February 2008 (no images)

aa - ab - af - ak - als - am - an - ang - ar - arc - as - ast - av - ay - az - ba - bar - bat_smg - bcl - be - be_x_old - bg - bh - bi - bm - bn - bo - bpy - br - bs - bug - bxr - ca - cbk_zam - cdo - ce - ceb - ch - cho - chr - chy - co - cr - crh - cs - csb - cu - cv - cy - da - de - diq - dsb - dv - dz - ee - el - eml - en - eo - es - et - eu - ext - fa - ff - fi - fiu_vro - fj - fo - fr - frp - fur - fy - ga - gan - gd - gl - glk - gn - got - gu - gv - ha - hak - haw - he - hi - hif - ho - hr - hsb - ht - hu - hy - hz - ia - id - ie - ig - ii - ik - ilo - io - is - it - iu - ja - jbo - jv - ka - kaa - kab - kg - ki - kj - kk - kl - km - kn - ko - kr - ks - ksh - ku - kv - kw - ky - la - lad - lb - lbe - lg - li - lij - lmo - ln - lo - lt - lv - map_bms - mdf - mg - mh - mi - mk - ml - mn - mo - mr - mt - mus - my - myv - mzn - na - nah - nap - nds - nds_nl - ne - new - ng - nl - nn - no - nov - nrm - nv - ny - oc - om - or - os - pa - pag - pam - pap - pdc - pi - pih - pl - pms - ps - pt - qu - quality - rm - rmy - rn - ro - roa_rup - roa_tara - ru - rw - sa - sah - sc - scn - sco - sd - se - sg - sh - si - simple - sk - sl - sm - sn - so - sr - srn - ss - st - stq - su - sv - sw - szl - ta - te - tet - tg - th - ti - tk - tl - tlh - tn - to - tpi - tr - ts - tt - tum - tw - ty - udm - ug - uk - ur - uz - ve - vec - vi - vls - vo - wa - war - wo - wuu - xal - xh - yi - yo - za - zea - zh - zh_classical - zh_min_nan - zh_yue - zu