چيمہ
وکیپیڈیا سے
چیمہ ـ پنجاب کے سب سے بڑے جٹ قبائل میں سے ایک ـ ان کا کہنا ہے کہ کوئی 25 پشتیں قبل ان کا جد امجد چیمہ ایک چوہان راجپوت اس وقت دہلی سےفرار ہوا۔ جب محمد غوری نے رائے تنورا کو شکست دی۔ چیمہ پہلے کانگڑہ اور پھر امرتسر گیا جہاں اس کے بیٹے چھوٹو لال نےعلاؤالدین کے عہد میں بیاس کے کنارے ایک گاؤں آباد کیا۔ اس کے پوتے کا نام رانا کنگ تھا ـاور اس کے 8 بیٹوں میں سے سب سے چھوٹا بیٹا ڈھول ان کے موجودہ قبیلچوں کا جدامجد تھا ،دوگل ، موہتل ، نگارا اور چیمہ ـ
چیموں کی شادی بیاہ کی رسوم ساہی جٹوں کے ضمن میں بیان کی گئي ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ ان کی رسوم برہمنوں کی بجائے جوگی ادا کرواتے تھے ـ مگر آج کل یہ کام بھنیا پروہت کرتے ہیں۔
چیمے ایک طاقتور اور متحد مگر جھگڑالو قبیلہ ہے ـ وہ قبیلے کے اندر شادیاں کرنے کے علاوہ پڑوسیوں کے ساتھ بھی کر لیتے ہیں قبیلے کے بڑے حصے نے فیروز شاہ اور اورنگزیب کے عہد میں اسلام قبول کیا لیکن زیادہ تر نے اپنی پرانی رسوم برقرار رکھیں۔
سیالکوٹ میں ان کی تعداد سب سے زیادہ ہے ـ مگر گوجرانولہ میں بھی 42 دیہات کے مالک ہیں اور مشرق اور مغرب کی جانب پھیل گئے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ قبیلے کا نام ان کے سب سے چھوٹے قبیلچے کے نام پر ہے جو دھول کی اولاد ہے۔ اور ان کا نسب نامہ یوں ہے۔
رائے تنورا سے چھوٹو لال سے چوتھی پشت میں چیمہ سے اودھر اور اودھن اودھن سے راون جس نے چیمہ کی بنیاد رکھی۔