گلکرسٹ
وکیپیڈیا سے
فورٹ ولیم کالج کے شعبہ ہندوستانی کے مصنفین میں سے سر فہر ست ڈاکٹر جان گلکرسٹ کا نام ہے۔ وہ 1759کو ایڈنبرا (سکاٹ لینڈ) میں پیدا ہوئے۔ وہ بطور ڈاکٹر ہندوستان آئے ۔اور یہاں کی زبان سیکھی کیوں کے اس کے بغیر وہ یہاں اپنے پیشے کو بخوبی سرانجام نہیں دے سکتے تھے۔ بعد میں فورٹ ولیم کالج کے آغاز کا سبب بنے ۔جان گلکرسٹ نے چار سال تک اس کالج میں خدمات سرانجام دیں اور 1704 میں وہ پنشن لے کر انگلستان چلے گئے۔ جہاں اورینٹل انسٹی ٹیوٹ میں اردو کے پروفیسر مقرر ہوئے 9 جنوری 1841ء کو پیرس میں انتقال کر گئے۔ ۔ چار سالہ قیام میں انھوں نے مندرجہ زیل کتابیں لکھیں۔
”انگریزی ہندوستانی لغت“ اُن کی پہلی تصنیف ہے اس لغت میں انگریزی الفاظ کے معانی اردو رسم الخط میں شامل کئے گئے ہیں۔ اور اس میں اس طرح کے اشاروں کا اضافہ کیا گیا ہے جن سے پڑھنے والوں کو الفاظ کے تلفظ میں زیادہ سے زیادہ سہولت ہو۔ لغت میں معنی سمجھانے کے لئے اردو ہندی اشعار رومن میں درج کئے گئے ہیں۔
”ہندوستانی زبان کے قواعد “ ان کی دوسری تصنیف ہے ۔ یہ اردو کی صرف نحو کی بہترین کتاب ہے۔ بہادر علی حسینی نے رسالہ گلکرسٹ کے نام سے اس کتا ب کا خلاصہ مرتب کیا۔
”بیاض ہندی“ میں فورٹ ولیم کالج کے مصنفین و مو لفین کے کلام نثر کا انتخاب شامل ہے۔ ”مشرقی قصے“ میں حکایتوں اور کہانیوں کا ترجمہ شامل ہے جو حکایات لقمان اور انگریزی ، فارسی ، برج بھاشا اور سنسکرت کے واسطے مترجم تک پہنچی ہیں۔ ان کے علاوہ گلکرسٹ کی تصانیف میں مشرقی زبان دان ، فارسی افعال کا نظریہ جدید ، رہنمائے اردو، اتالیق ہندی، عملی خاکے، ہندی عربی آئینہ ، ہندو ی داستان گو اور ہندوستانی بول چال وغیر شامل ہیں