جینوا (اٹلی)
وکیپیڈیا سے
جینوا | |
![]() |
|
عمومی معلومات | |
ملک | {{{ملک}}} |
علاقہ | لگوریا |
صوبہ | جینوا |
رقبہ | 243 مربع کلومیٹر |
آبادی | 620,316 (2006ء) |
کالنگ کوڈ | 010 (39+) |
منطقۂ وقت | مرکزی یورپی وقت (UTC+1) |
حکومت | |
ناظم (سنداکو) | جیوسیپے پیریکو |
زیر انتظام کمونے | 67 |
اطالوی نقشہ میں شہر کا مقام | |
[[Image:{{{شہر_نقشہ}}}|200px]] | |
علامت | |
![]() |
|
جینوا (انگریزی Genoa) (اطالوی Genova) (جینویزے Zena) شمالی اٹلی کی بندرگاہ، صوبہ جینوا اور علاقہ لیگوریا (Liguria) کا صدر مقام اور چھ لاکھ بیس ہزار آبادی کے ساتھ اٹلی کا چھٹا بڑا شہر ہے۔
فہرست |
[ترمیم] تاریخ
[ترمیم] زمانہء قدیم
جینوا کی تاریخ بہت قدیم زمانہ سے ملتی ہے۔ تاریخ میں معلوم جینوا کے پہلے مکین لیگور (Ligures) (قدیم اطالوی قبیلہ) ہیں۔ شہر کا ایک قبرستان جو پانچویں یا چھٹی صدی قبل مسیح کا ہے شہر پر یونانیوں کے تسلط کے شواہد مہیہ کرتا ہے، تاہم بندرگاہ کے استعمال کے آثار اس سے بھی زیادہ پرانے زمانہ کے محسوس ہوتے ہیں، مثلا ایسٹروسکن (Etruscans) (قدیم اطالوی باشندے) زمانہ کے۔ یہ بھی قیاس ہے کہ مشرق وسطی کے فینکس (Phoenicians) قبائل بھی جینوا یا اسکے گردونواع میں آباد رہے ہوں گے، جس کی دلیل میں لبنانی شہر صور میں استعمال ہونے والے حروف تہجی سے مشابہت بیان کی جاتی ہے (غیر مصدقہ)۔
رومی عہد میں جینوا، موجودہ ساوونا (Savona) کے گردونواع کے طاقتور مارسیلی (Marseille) اور وادا سبادیا (Vada Sabatia) کے زیر سایہ رہا۔ لیکن لیگوریا اور گردونواع کے باقی رہنے والوں کے برعکس دوسری پونک جنگ (Second Punic War) ۔ (218 تا 202 قبل مسیح) میں جینوا برابری کے معاہدہ کے تحت روم کا اتحادی رہا۔ اور اسی وجہ سے 209 قبل مسیح میں جینوا کو کارتھینین ( Carthaginians) کے ہاتھوں بربادی کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر کی تعمیر نو کی گئي اور کارتھینین کی جنگوں کے بعد شہر کو دوبارہ شہری حقوق واپس مل گۓ۔ زمانہ قدیم میں شہر کی اہم تجارتی مصنوعات چمڑہ، لکڑی اور شہد تھیں جو اندرونی علاقوں میں واقع اہم شہروں مثلا تورتونا (Tortona) اور پیاچنزا (Piacenza) کو بھیجی جاتی تھیں۔
رومی سلطنت کی تباہی کے بعد جینوا جرمینک قبائل اوستروگوتھ (Ostrogoths) کے زیر قبضہ آیا، اور گوتھک لڑائی کے بعد بازنطینی صوبہ بنا۔ 643ء میں لمباردیا کے زیر اثر آیا، جنکی سلطنت کا خاتمہ 773ء میں سلطنت فرانک (جرمینک فرانک قبائل) نے کیا۔ بعد کی کئی صدیوں تک شہر ماہی گیری کے قدرے بڑے مرکز کے طور پر رہا، جہاں تجارت آہستہ آہستہ بڑھنے لگی حتی کہ شہر بحیرہ روم کے ساحل کی اہم بندرگاہ بن گیا۔ 934ء میں شہر عرب قزاقوں کے ہاتھوں جلا، لیکن جلد ہی تعمیر نو کر لی گئي۔
[ترمیم] قرون وسطی
1100ء تک جینوا ایک آزاد شہر کے طور پر ابھرا۔ رومی سلطنت کا زور ٹوٹنے کے ساتھ شہر کے لاٹ پادری (بشپ) کا پلڑا بھاری ہونے لگا۔ لیکن حقیقی طاقت کئی کونسلوں کو حاصل تھی جنکو عوام سال کے لیے منتخب کرتے تھے۔ باقی اطالوی ساحلی شہروں کی طرح جینوا کی ترقی اور طاقت بڑھانے میں تجارت، جہازسازی، اور بنکاری نے اہم کردار ادا کیا۔ جینوا کی سلطنت پھیلتے ہوۓ لگوریا کے باقی ماندہ علاقہ کے ساتھ ساتھ پیامونتے، ساردینیہ، کورسیکہ تک پھیل گئي اور کسی حد تک بحیرہ روم پر بھی گرفت ڈالنے لگی۔
[ترمیم] وضع آبادی
زیادہ تر آبادی اطالوی ہے، جہاں شمالی اور جنوبی اٹلی سے کئی لوگ یہاں آ کر آباد ہوتے رہے۔ تقریبا 95.3 فیصد آبادی پیدائشی اطالوی ہے۔ تاہم 1900ء کے بعد بیرونی ہجرت بڑھنے کی وجہ سے یورپ کے ساتھ ساتھ ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکہ کے کئی مہاجر یہاں آ کر آباد ہوۓ ہیں۔