محمود غزنوی
وکیپیڈیا سے
یمین الدولہ محمود (مکمل نام: یمین الدولہ عبدالقاسم محمود ابن سبکتگین) المعروف محمود غزنوی (پیدائش 2 اکتوبر 971ء ، انتقال 30 اپریل 1030ء ) 997ء سے اپنے انتقال تک سلطنت غزنویہ کا حکمران تھا۔ اس نے غزنی شہر کو دنیا کے دولت مند ترین شہروں میں تبدیل کردیا اور اس کی وسیع سلطنت میں موجودہ مکمل افغانستان، ایران اور پاکستان کے کئی حصے اور شمال مغربی بھارت شامل تھا۔ وہ تاریخ اسلامیہ کا پہلا حکمران تھا جس نے سلطان کا لقب اختیار کیا۔
فہرست |
[ترمیم] تخت نشینی
محمود اپنے والد سبکتگین کے 20 سالہ دور حکومت کے بعد تخت پر بیٹھا۔ محمود خاندان سبکتگین کا سب سے بڑا بادشاہ اور اسلامی تاریخ کے مشہور ترین حکمرانوں میں سے ایک ہے۔ محمود ہندوستان پر 17 حملوں کے باعث شہرت کی بلندیوں پر پہنچا۔
[ترمیم] کارنامے
محمود بچپن سے ہی بڑا نڈر اور بہادر تھا۔ وہ اپنے باپ کے ساتھ کئی لڑائیوں میں حصہ لے چکا تھا۔ بادشاہ ہونے کے بعد اس نے سلطنت کو بڑی وسعت دی۔ وہ کامیاب سپہ سالار اور فاتح بھی تھا۔ شمال میں اس نے خوارزم اور بخارا پر قبضہ کرلیا اور سمرقند کے علاقے کے چھوٹے چھوٹے حکمرانوں نے اس کی اطاعت قبول کرلی۔ اس نے پہلے بخارا اور سمرقند کاشغر کے ایلک خانی حکمرانوں کے قبضے میں تھے اور خوارزم میں ایک چھوٹی سے خودمختار حکومت آل مامون کے نام سے قائم تھی۔ جنوب میں اس نے رے، اصفہان اور ہمدان فتح کرلئے جو بنی بویہ کے قبضے میں تھے ۔ مشرق میں اس نے قریب قریب وہ تمام علاقہ اپنی سلطنت میں شامل کرلیا جو اب پاکستان کہلاتا ہے ۔
لاہور کی حکومت کے ہندو راجہ بار بار خراج دینا بند کردیتے تھے اور ہندوستان کے راجاؤ ں سے مدد لے کر محمود کے مقابلے پر آجاتے تھے ۔ محمود نے ان سب کو کئی بار شکست دی اور آخر تنگ آکر 412ھ میں لاہور کی حکومت کو براہ راست سلطنت میں شامل کرلیا۔ محمود نے ان راجائوں کے علاقوں پر بھی حملہ کیا جو لاہور کے راجہ کی مدد کیا کرتے تھے اور اس طرح اس نے قنوج اور کالنجر تک اپنی سلطنت بڑھادی لیکن ان علاقوں پر براہ راست محمود نے حکومت قائم نہیں کی بلکہ راجائوں سے اطاعت کا وعدہ لے کر غزنی واپس چلا گیا۔ محمود کا آخری بڑا حملہ سومنات پر ہوا۔ سومنات سے واپسی پر محمود نے منصورہ فتح کرکے سندھ کو بھی اپنی سلطنت میں شامل کرلیا۔ ہندوستان پر محمود نے کل 17 حملے کئے ان حملوں کی وجہ سے محمود کو بڑی شہرت حاصل ہوئی۔
[ترمیم] اعتراضات
محمود غزنوی پر چند اعتراضات بھی کئے جاتے ہیں جن میں ہندوستان پر 17 حملے بھی شامل ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان حملوں سے اسلام کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔ محمود کی فوجیں دہلی، متھرا، قنوج کالنجر اور سومنات تک پہنچ گئیں لیکن وہ لڑائی لڑ کر مال غنیمت لوٹ کر اور اطاعت کا وعدہ لے کر واپس چلی جاتی تھیں۔ یہ راجہ بار بار باغی ہوجاتے تھے اور محمود کو پھر واپس آنا پڑتا تھا۔ محمود کی یہ لشکر کشی خلافت راشدہ اور بنی امیہ کے زمانے کی فتوحات سے بالکل مختلف تھی۔ ان کے زمانے میں جو ملک فتح ہوئے ان پر مسلمانوں نے باقاعدہ حکومت قائم کردی تھی اور ایک ایسا نظام قائم کردیا تھا جو پہلے سے بہتر تھا لیکن محمود نے سوائے پنجاب کے اور کسی علاقے کو اپنی سلطنت کا جزو نہیں بنایا۔ اسی وجہ سے محمود کو بار بار جنگیں کرنا پڑیں جس میں خزانہ اور لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور ہندو یہ سمجھنے لگے کہ مسلمان صرف جنگجو اور لٹیرے ہیں۔ یہ رائے ایرانی اور رومی باشندے عربوں کے بارے میں قائم نہیں کرسکتے تھے کیونکہ عربوں نے جو بھی علاقہ فتح کیا وہاں مستحکم حکومت قائم کی۔
[ترمیم] عدل و انصاف
محمود ایک بڑا فاتح اور سپہ سالار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک رعایا پرور بادشاہ بھی تھا۔ اس کے عدل و انصاف کے قصے بہت مشہور ہیں۔ ایک مرتبہ ایران کے کسی علاقے میں جسے حال ہی میں محمود نے فتح کیا تھا سوداگروں کا ایک قافلہ لٹ گیا۔ اس قافلے میں ایک بڑھیا کا لڑکا بھی تھا۔ بڑھیا نے جب محمود سے اس کی شکایت کی تو اس نے کہا کہ وہ علاقہ بہت دور ہے اس لئے اس کا انتظام مشکل ہے ۔ بڑھیا بھی ہمت والی تھی اس نے جواب دیا کہ جب تم کسی علاقے کا انتظام نہیں کرسکتے تو نئے نئے ملک کیوں فتح کرتے ہو؟۔ محمود نے جب بڑھیا کا یہ جواب سنا تو بڑا شرمایا۔ بڑھیا کو تو روپے پیسے دے کر رخصت کردیا لیکن اس علاقے کا ایسا انتظام کردیا کہ سوداگروں کے قافلوں کو لوٹنے کی پھر کوئی ہمت نہیں کرسکتا تھا۔
[ترمیم] علم و ادب کا سرپرست
محمود غزنوی علم و ادب کا بہت بڑا مربی اور سرپرست تھا۔ عباسی خلفاء کے بعد تاریخ میں دو چار ہی بادشاہ ملیں گے جو محمود کی طرح علم و فن کے سرپرست ہوں۔ اس کی قدر دانی کی وجہ سے اس کے دربار میں بڑے قابل لوگ جمع ہوگئے ۔ ان میں صرف شاعروں کی تعداد 400 تھی
اس کے دربار کے شعراء میں مشہور شاعر فردوسی بھی شامل تھا۔ فردوسی نے شاہنامہ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس شاہنامے میں نہ محمود کی فتوحات کا حال ہے اور نہ مسلمانوں کے شاندار کارناموں کا بلکہ اس میں تو اسلام سے پہلے کے ایرانی بادشاہوں کے جھوٹے سچے حالات بڑھا چڑھا کر لکھے گئے ہیں لیکن یہ اتنی خوبی سے لکھے گئے ہیں کہ شاہنامہ فارسی شاعری کا ایک شاہکار سمجھاجاتا ہے اور دنیا اسے آج تک دلچسپی سے پڑھتی ہے ۔
محمود سے سامانیوں سے بھی زیادہ فارسی کی سرپرستی کی جس کی وجہ اب فارسی زبان نے ترقی کرنا شروع کردی۔
محمود کے دور کا ایک اور بہت بڑا محقق البیرونی تھا۔ البیرونی اپنے زمانے کا سب سے بڑا محقق اور سائنس دان تھا۔ اس نے ریاضی، علم ہیئت، تاریخ اور جغرافیہ میں ایسی عمدہ کتابیں لکھیں جو اب تک پڑھی جاتی ہیں۔
محمود نے شہر غزنی کو بڑی ترقی دی جب وہ بادشاہ ہوا تو یہ معمولی شہر تھا لیکن محمود نے اپنے تیس سالہ حکومت میں غزنی کو دنیا کا ایک عظیم الشان شہر بنادیا۔ یہاں اس نے ایک عظیم الشان مسجد تعمیر کی، ایک بہت بڑا مدرسہ بنایا اور ایک عجائب گھر بھی قائم کیا۔ اس نے قنوج کی فتح کی یادگار کے طور پر ایک مینار بنایا جو اب تک غزنی میں موجود ہے ۔
محمود غزنوی کے بعد غزنی کی سلطنت کا زوال شروع ہوگیا۔
[ترمیم] متعلقہ مضامین
[ترمیم] مزید مطالعہ کے لئے
- محمود غزنوی از پروفیسر حبیب (اردو ترجمہ)
- محمود غزنوی از نصیر احمد جامعی