جلیانوالہ باغ
وکیپیڈیا سے
امرتسر ’’ مشرقی پنجاب ،بھارت‘‘ میں سکھوں کے عہد کا ایک باغ جہاں 13 اپریل 1919ء کو انگریز فوج نے سینکڑوں حریت پسندوں کو کولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس قتل عام کا باعث رسوائے زمانہ رولٹ ایکٹ مجریہ 21 مارچ 1919 ء تھا جس کے ذریعے ہندوستانیوں کی رہی سہی آزادی بھی سلب کر لی گئی تھی۔ تمام ملک میں مظاہروں اور ہڑتالوں کے ذریعے اس ایکٹ کے خلاف احتجاج کیا جا رہا تھا اور امرتسر میں بھی بغاوت کی سی حالت تھی۔
13 اپریل 1919ء بروز اتوار امرتسر کے شہری شام کے 4 بجے اپنے رہنماؤں ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور ڈاکٹر ستیہ پال کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے لیے جلیانوالہ باغ میں جمع ہوئے۔ حکومت نے جلسے جلوسوں پر تین روز قبل پابندی لگا دی تھی۔ یہ باغ دو سو گز لمبا اور ایک سو گز چوڑا تھا۔ اس کے چاروں طرف دیوار تھی اور دیوار کے ساتھ ہی مکانات تھے۔ باہر نکلنے کے لیے ایک چھوٹا سا تنگ راستہ تھا۔ تمام باغ کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اور لوگ مقرریں کی تقرریں سن رہے تھے۔ کہ انگریز فوج کا ایک بریگیڈیر جنرل ڈائر 50 انگریز اور ایک سو ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ باغ میں داخل ہوا اور بغیر کسی انتباہ کے پرامن جلسے پر گولی چلانے کا حکم دے دیا۔جس سے 400 اشخاص ہلاک اور 1200 زخمی ہوئے۔ اس قتل عام کے فوراً بعد شہر میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔