سلطان محمد فاتح
وکیپیڈیا سے
محمد ثانی المعروف فاتح 1444ء سے 1446ء اور 1451ء سے 1481ء تک سلطنت عثمانیہ کے سلطان رہے۔ انہوں نے محض 21 سال کی عمر میں قسطنطنیہ فتح کرکے بازنطینی سلطنت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیا۔ اس عظیم الشان فتح کے بعد انہوں نے اپنے خطابات میں قیصر کا اضافہ کیا۔
سلطان محمد ثانی نے عیسائیوں کے اس عظیم مرکز اور باز نطینی سلطنت کے اس مستحکم قلعے کو فتح کر کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کو پورا کر دکھایا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں فتح قسطینطینہ کی خواہش کا اظہار کرتے ہوۓ اس کے فاتحین کو جنت کی بشارت دی تھی۔ قسطنطنیہ فتح کر کے سلطان محمد ثانی نے اسلام کی نامور ہستیوں میں ایک ممتاز شخصیت کی حیثیت اختیار کر لی۔ قسطنطنیہ فتح ہوا اور زمانے نے دیکھا کہ باز نطینی سلطنت کے ہزار سالہ غرور اور تکبر کے بت اوندھے پڑے ہوئے ہیں اور قسطنطینہ کی فصیل کے نیچے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مقبرے پر ہلالی پرچم کا سایہ ہے۔ قسطنطینہ کی تسخیر عالم اسلام کے لئے مسلمانوں کی جرات و شجاعت کی یادگار ہے۔
محمد فاتح نے اینز، گلاتا اور کیفے کے علاقے عثمانی سلطنت میں شامل کئے جبکہ محاصرہ بلغراد میں بھی حصہ لیا جہاں وہ شدید زخمی ہوئے۔ 1458ء میں انہوں نے موریا کا بیشتر حصہ اور ایک سال بعد سربیا فتح کرلیا۔ 1461ء میں اماسرا اور اسفندیار عثمانی سلطنت میں شامل ہوئے انہوں نے یونانی سلطنت طربزون کا خاتمہ کیا اور 1462ء میں رومانیہ، یائچی اور مدیلی بھی سلطنت میں شامل کرلئے۔
فہرست |
[ترمیم] ابتدائی زندگی
محمد ثانی 30 مارچ 1432ء کو ادرنہ میں پیدا ہوئے جو اس وقت سلطنت عثمانیہ کا دارالحکومت تھا۔ ان کے والد سلطان مراد ثانی اور والدہ ہما خاتون تھیں۔ 11 سال کی عمر میں محمد ثانی کو اماسیہ بھیج دیا گیا جہاں انہوں نے حکومت سنبھالنے کی تربیت حاصل کی۔ اگست 1444ء میں مراد ثانی اناطولیہ میں امارت کرمان کے ساتھ امن معاہدے کے بعد 12 سالہ محمد ثانی کے حق میں سلطنت سے دستبردار ہوگئے۔
اپنے پہلے دور بادشاہت کے دوران جنگ ورنا کے خدشات کے پیش نظر سلطان محمد نے اپنے والد مراد ثانی سے تخت سنبھالنے کا مطالبہ کیا لیکن انہوں نے زاہدانہ زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے اس سے انکار کردیا۔ جس پر محمد ثانی نے انہیں ایک خط لکھا جس میں درج تھا کہ "اگر آپ سلطان ہیں تو آئیے اور فوج کی کمان سنبھالئے لیکن اگر میں سلطان ہوں تو میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ میری فوج کی قیادت سنبھالیں"۔ اس خط کے بعد سلطان مراد نے 1444ء میں جنگ ورنا میں عثمانی افواج کی قیادت کی۔
[ترمیم] فتح قسطنطنیہ
1451ء میں اپنے والد سلطان مراد ثانی کی وفات پر سلطان محمد ثانی نے دوسری مرتبہ تخت سنبھالا اور دو سال بعد ہی محاصرہ قسطنطنیہ میں کامیابی حاصل کرکے بازنطینی سلطنت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیا۔ اس فتح کے بعد سلطنت موریا کو فتح کیا اور بازنطینی حکومت کی یہ آخری نشانی بھی 1461ء میں ختم کردی۔ قسطنطنیہ کی فتح نے سلطنت عثمانیہ کو ایک دنیا بھر میں شاندار عظمت اورعزت عطا کی اور عثمانی پہلی بار ایک بھرپور قوت کے طور پر ابھرے۔ فتح قسطنطنیہ کے بعد محمد ثانی نے اپنے لئے قیصر روم کا خطاب چنا۔
فتح قسطنطنیہ کی خوشخبری ایک حدیث میں بیان کی گئی تھی جس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "تم ضرور قسطنطنیہ کو فتح کرو گے، وہ فاتح بھی کیا باکمال ہوگا اور وہ فوج بھی کیا باکمال ہوگی"۔
[ترمیم] ایشیاء میں فتوحات
قسطنطنیہ کی فتح نے محمد ثانی کو اپنی توجہ اناطولیہ پر مرکوز کرنے کی مہلت دی۔ محمد ثانی اناطولیہ میں قائم ترک ریاستوں اور شمال مشرقی اناطولیہ کی عیسائی سلطنت طربزون کا خاتمہ کرکے ایشیائے کوچک کو ایک سیاسی وحدت میں تبدیل کرنا چاہتا تھا۔ اناطولیہ کو مکمل فتح کرنے کی صورت میں ہی وہ یورپ میں مزید فتوحات حاصل کرسکتا تھا۔
[ترمیم] یورپ میں فتوحات
اناطولیہ اور قسطنطنیہ کی فتوحات اور اسے اپنا دارالحکومت قرار دینے کے بدع محمد ثانی نے یورپ میں پیش قدمی کی۔ وہ سابق رومی سلطنت کو سلطنت عثمانیہ کے پرچم تلے لانا چاہتا تھا جس کےلئے اس نے 1480ء میں اٹلی پر حملہ کیا جس کا مقصد روم پرحملہ کرکے 751ء کے بعد پہلی مرتبہ رومی سلطنت کو دوبارہ یکجا کرنا تھا اور پہلے مرحلے میں اس نے 1480ء میں اوٹرانٹو فتح کرلیا۔ لیکن 1443ء اور 1468ء کے بعد 1480ء میں تیسری مرتبہ البانیا میں سکندر بیگ کی بغاوت نے افواج کے رابطے کو منقطع کردیا جس کی بدولت پوپ سکسٹس چہارم نے ایک زبردست فوج لے کر 1481ء میں اوٹرانٹو کو مسلمانوں سے چھین لیا۔ دوسری جانب محمد ثانی نے بلقان کی تمام چھوٹی ریاستوں کو فتح کرلیا اور مشرقی یورپ میں بلغراد تک پہنچ گیا جہاں 1456ء میں بلغراد کا محاصرہ کیا لیکن جون ہونیاڈے کے خلاف کامیاب نہ ہوسکا۔ 1462ء میں اس کا ولاچیا کے شہزاد ولیڈ سوئم ڈریکولا سے بھی تصادم ہوا۔ 1475ء میں عثمانیوں کو جنگ ویسلوئی میں مالڈوویا کے اسٹیفن اعظم کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ چند شکستوں کے باوجود محمد فاتح کے دور میں عثمانی سلطنت کا رقبہ کافی وسیع ہوا۔
[ترمیم] علم و ہنر کی سرپرستی
محمد ثانی عظیم فاتح ہونے کے ساتھ ساتھ علم و ہنر کا بھی سرپرست تھا۔ اس نے قسطنطنیہ کی فتح کے بعد اٹلی کے مصوروں اور یونانی دانشوروں کو اپنے دربار کا حصہ بنایا اور مسلم سائنسدان اور ہنرمند بھی اس کے دربار سے وابستہ تھے۔ اس نے قسطنطنیہ میں ایک جامعہ قائم کی اور فاتح مسجد سمیت کئی مساجد ، نہریں اور توپ کاپی محل تعمیر کرایا۔
محمد ثانی کا دور رواداری اور برداشت کا دور سمجھا جاتا ہے جس میں اس نے مفتوح بازنطینیوں کے ساتھ نیک سلوک کیا جو قرون وسطی کے یورپیوں کے لئے حیران کن تھا۔ محمد ثانی کے دور میں حکومت میں سلطنت کے عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ مثالی سلوک کیا جاتا تھا اور انہیں ہر قسم کی خودمختاری حاصل تھی۔
[ترمیم] انتقال
سلطان محمد فاتح 3 مئی 1481ء کو انتقال کرگئے ۔ ان کا مزار استنبول میں فاتح مسجد کے برابر میں ہے۔ آبنائے باسفورس پر قائم کیا جانے والا دوسرے پل کو انہی کے نام پر "سلطان محمد فاتح پل" کا نام دیا گیا ہے۔
[ترمیم] شخصیت
محمد فاتح صرف اپنی فتوحات کی وجہ سے مشہور نہیں ہے بلکہ انتظام سلطنت اور اپنی حیرت انگیز قابلیت کے باعث بھی شہرہ رکھتا ہے۔ اس نے پہلی مرتبہ سلطنت عثمانیہ کے لئے باقاعدہ قوانین مرتب کئے ۔ محمد فاتح ترکوں کا شیر شاہ اور اکبر تھا لیکن اس نے ایک قانون بڑا خراب بنایا کہ جب کوئی بادشاہ تخت پر بیٹھے تو وہ اپنے بھائیوں کو قتل کرادے۔ بادشاہت میں ایک بڑی خرابی یہ ہوتی ہے کہ باپ کے مرجانے کے بعد سلطنت کے لئے بھائیوں میں لڑائیاں شروع ہوجاتی ہیں اور جو طاقتور نکلتا ہے وہ بادشاہ ہوجاتا ہے۔ اس طرح ہزاروں لوگوں کا ناحق خون ہوتا ہے اور محمد فاتح نے اس خونریزی کو روکنے کے لئے یہ قانون بنایا۔ اس قانون کا یہ نتیجہ ضرور نکلا کہ آئندہ سلطنت کی تاریخ میں شہزادوں کی لڑائیاں ختم ہوگئی لیکن پھر بھی محمد فاتح کا یہ قانون ظالمانہ ہےتھا۔
محمد فاتح اگرچہ اپنی فتوحات اور انتظامی صلاحیتوں و تدبر میں اپنے اجداد پر بازی لے گیا تھا لیکن وہ اخلاق و کردار میں اورخان، مراد اول یا مراد دوم کے ہم پلہ نہیں تھا۔ وہ اگرچہ فطرتا ظالم نہیں تھا لیکن اس کی طبیعت میں درشتی اور سختی ضرور تھی۔ وہ اپنی مخالفت کو برداشت نہیں کرسکتا تھا اور بڑے بڑے لوگوں کو بغیر کسی تحقیق کے قتل کردیتا تھا۔ اگرچہ اس نے قانون نامہ مرتب کرکےحکومت کو قانون کا پابند بنایا لیکن اپنی ذات مین وہ ایک مستبند حکمران تھا۔ صلاح و مشورے کو جو اس کے اجداد کا اصول تھا، ذرہ برابر اہمیت نہیں دیتا تھا۔
محمد فاتح کے بعد اس کا بیٹا بایزید ثانی تخت نشین ہوا جس نے تیس سال حکومت کی۔
[ترمیم] بیرونی روابط
[ترمیم] مزید دیکھئے
دورِ عروج (1299ء–1453ء) | عثمان اول - اورخان اول - مراد اول - بایزید اول - محمد اول - مراد دوم - محمد دوم |
---|---|
دورِ توسیع (1453ء–1683ء) | بایزید دوم - سلیم اول - سلیمان اول - سلیم دوم - مراد سوم - محمد سوم - احمد اول - مصطفی اول - عثمانی دوم - مراد چہارم - ابراہیم اول - محمد چہارم |
دورِ جمود (1683ء–1827ء) | سلیمان دوم - احمد دوم - مصطفی دوم - احمد سوم - محمود اول - عثمان سوم - مصطفی سوم - عبدالحامد اول - سلیم سوم - مصطفی چہارم - محمود دوم |
دورِ زوال (1828ء–1908ء) | عبدالمجید - عبدالعزیز - مراد پنجم - عبدالحامد ثانی - محمد پنجم |
خاتمہ (1908ء–1923ء) | محمد ششم |